12 ستمبر 2012 - 19:30

روس کے وزير خارجہ نے کہا ہے کہ دوہزار چودہ ميں افغانستان سے غيرملکي افواج کے انخلاء کے بعد اس ملک ميں نيٹو کے فوجي اڈوں کا باقي رہنے يا نہ رہنے کے بارے ميں شبہات پائے جاتے ہيں-

ابنا: روسي وزير خارجہ سرگئي لاوروف نے جمعرات کو اپنے بيان ميں کہا کہ ہم افغانستان کےموجودہ حالات کو نظرانداز نہيں کرسکتے کيونکہ سن دوہزار چودہ ميں افغانستان سے غيرملکي فوجوں کے انخلاء کے بعد بھي وہاں نيٹو کي فوجوں کے باقي رہنے کےسلسلے ميں مشکوک نوعيت کے بيانات سامنے آرہے ہيں-انہوں نے کہا کہ روس اس سلسلے ميں ابہامات کو دور کئے جانے کا مطالبہ کرتا ہے –روسي وزير خارجہ نے يہ سوال اٹھايا کہ افغانستان ميں انسداد دہشتگردي کے مشن کے خاتمے کے بعد افغانستان ميں نيٹو کي فوجي موجودگي کا کيا جواز رہ جائے گا –روسي وزير خارجہ نے کہا کہ ماسکو کو  اس سلسلے ميں امريکا اور نيٹو کے جواب کا انتظار ہے –واضح رہے کہ امريکا اور افغانستان کے سربراہوں نے چند مہينے قبل ايک سمجھوتے پر دستخط کئے جس کي بنياد پر سن دوہزار چودہ کے بعد بھي امريکي فوجيوں کي ايک تعداد فوجي مبصرين کے طورپر وہاں موجود رہے گي –بعض خبري ذرائع کا کہنا ہے کہ امريکا اور افغانستان کے درميان ہونےوالا يہ سمجھوتہ افغانستان ميں مستقل فوجي اڈے کے قيام کے لئے امريکي کوشش ہے –روسي حکام نے بارہا اس سمجھوتے پر اپني تشويش کا اظہار کيا اور مطالبہ کيا  ہے کہ افغانستان سے سبھي غير ملکي فوجوں کو دوہزار چودہ کے بعد نکل جانا چاہئے......../169